اورنگ آباد ،13؍مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں غیر قانونی پانی کنکشن کو لے کر دو فرقوں میں تصادم میں دوافرادکی موت کے بعدحالات پرسکون ہیں اورپولیس کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے سخت نظر رکھے ہوئے ہے۔پولیس افسران نے بتایاہے کہ ممبئی سے350کلومیٹر دور مراٹھواڑا علاقے کے اس فساد زدہ شہر میں صورت حال کو کنٹرول میں ہے لیکن کچھ پابندیاں اب بھی لگی ہوئی ہیں۔ایک سینئرپولیس افسرنے بتایاہے کہ انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں اورسی آرپی سی کی دفعہ 144نافذہے۔شہر میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔اورنگ آباد کے آئی جی ملند بھارنبے نے کہا کہ پولیس فائرنگ میں مبینہ طور پر مارے گئے 17سالہ ایک بچے کی آخری رسومات کی گئیں۔شہر میں صورت حال معمول پرہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے کافی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کئے ہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعے افواہوں کوروکنے کے لئے ہم نے انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے لوگوں سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور پولیس کو قانون ونظام کو برقرار رکھنے میں مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔ایک اور پولیس افسر کے مطابق جمعہ کو رات تقریبا دس بجے موتی کارجا علاقے میں دو فرقوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی تھی اور وہ گاندھی نگر، بادشاہ مارکیٹ، شاہ گنج اور صرافہ علاقوں میں پھیل گئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ تشدد میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے اور پولیس اہلکاروں سمیت 60 سے زیادہ دوسرے لوگ زخمی ہوئے تھے۔اس تشدد میں جان گنوانے والا دوسرا شخص 65 سالہ ایک بزرگ تھا جو اپنے گھر میں اس وقت پھنس گیا تھا جب فسادیوں نے اس کے گھر کے لئے اگلے والے گھر میں آگ لگا دی تھی۔تقریباً 100 دکانیں جلا دی گئی تھیں اور 40 سے زائد گاڑیاں تباہ کر دی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ تشدد متاثرہ علاقوں میں مقامی پولیس، اسٹیٹ ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔تلاشی مہم کے دوران پٹرول بم اور کروسن آلودہ کپڑے کے گولے ملے تھے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے موتی کارجا میں کشیدہ صورتحال بنتی جا رہی تھی کیونکہ میونسپل غیر قانونی پانی کنکشن کے خلاف کارروائی کر رہا تھا۔